ہفتہ 24 اکتوبر 2026 - 12:47
سورۂ کوثر؛ حضرت فاطمہ زہرا (س) کی ولادت سے قبل رسول اللہؐ کو بشارتِ الٰہی

حوزہ/ نائب مدیر حوزہ علمیہ قم حجۃ الاسلام و المسلمین ملکی نے کہا ہے کہ سورۂ کوثر میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے وعدے کی تکمیل کا واضح بیان موجود ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام و المسلمین ملکی نے سورۂ کوثر کے معارف اور قرآن کریم میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بلند مقام کی توضیح و تشریح کرتے ہوئے کہا کہ سورۂ کوثر قرآن کریم کی مختصر ترین سورتوں میں سے ہے، لیکن اپنے گہرے معانی اور عظیم مضامین کی وجہ سے اسے خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس سورہ کا بنیادی موضوع حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات مبارک ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیعہ اور اہل سنت کے مفسرین اس سورہ کے شان نزول کے بارے میں تقریباً متفق ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو صاحبزادوں، حضرت عبداللہ اور حضرت ابراہیم کی وفات کے بعد عاص بن وائل اور اس جیسے بعض دشمنوں نے آپؐ کو طعنے دیے اور کہا کہ آپؐ کی نسل آگے نہیں بڑھے گی اور آپؐ کا نام باقی نہیں رہے گا۔

حجۃ الاسلام و المسلمین ملکی کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسولؐ کی دل جوئی کے لیے سورۂ کوثر نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا: «إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ» یعنی بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس آیت میں لفظ ’’اِنّا‘‘ استعمال کیا گیا ہے، جو کسی عظیم معاملے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح ’’اَعْطَیْنا‘‘ کا لفظ بھی عطا کی عظمت اور اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ اس طرح آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو ایک عظیم نعمت عطا فرمائی، تاکہ دشمنوں کے طعنے آپؐ کے دل کو رنجیدہ نہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس آیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عطا کرنے کے لیے فعل ماضی استعمال کیا، حالانکہ اس وقت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت نہیں ہوئی تھی۔ قرآن کریم میں بعض اوقات مستقبل میں یقینی طور پر پیش آنے والے واقعات کو فعل ماضی کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے، تاکہ ان کے قطعی طور پر واقع ہونے کو ظاہر کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس اعتبار سے سورۂ کوثر میں ایک غیبی خبر بھی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو پہلے ہی بتا دیا کہ انہیں کوثر عطا کیا جاچکا ہے، یعنی یہ نعمت یقینی طور پر انہیں عطا ہوگی۔ یہ وعدہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات مبارک اور آپؑ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کے باقی رہنے کے مفہوم سے جڑا ہوا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha